Call Us @:

+91-40-24416847

+91-40-24576772

Fax: +91-40-24503267

اصلاح معاشرہ کے لیے علماء کو سرگرم عمل ہونے کی تلقین

ہند و پاک میں پہلی مرتبہ قرات سبعہ و عشرہ پر مشتمل قرآن مجید کی جامعہ نظامیہ کے زیر اہتمام طباعت

جامعہ کے 148 ویں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد‘ عطائے خلعت و دستار بندی سے مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ کا خطاب

حیدرآباد5 ۔ فروری (پریس نوٹ) ہندوستانی مسلمانوں کی فکری قیادت کیلئے علماء کو دور جدید کے بدلتے تقاضوں سے پوری طرح واقف ہونا ضروری ہے۔ جب تک علماء علاقائی زبانوں اور جدید ذرائع ابلاغ سے واقف نہیں ہوں گے ‘برادران وطن اور عصری تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کی صحیح معنوں میں رہنمائی نہیں کرسکیں گے۔ جامعہ نظامیہ اس سلسلہ میں بہت حد تک پیش قدمی کرچکا ہے۔ علما کی نئی نسل کو جامعہ کے لسانیات کے شعبہ کے ذریعہ زمانے کے موجودہ حالات سے واقف کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جامعہ نے حالیہ عرصہ کے دوران اس کے ملحقہ مدارس اور خواتین کی دینی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے‘ جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ نے علوم کی ترویج کے ساتھ ساتھ سماجی خرابیوں کے ازالہ کے لئے بھی زبردست خدمات انجام دیں‘ علماء کو یہ پہلو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ آج مسلم معاشرہ کے اندر جو خرابیاں آئی ہیں اس کو دور کرنا علماء کا فریضہ ہے۔ ازہر ہند جامعہ نظامیہ کے 148 ویں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد‘ عطائے خلعت و دستار بندی سے خطاب کرتے ہوئے مفکر اسلام مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ نے یہ بات بتائی۔ سالانہ جلسہ کی صدارت مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری امیر جامعہ نظامیہ نے کی۔ جلسہ میں سینکڑوں کی تعداد میں طلباء و طالبات ‘ سرپرستوں کے علاوہ فارغین جامعہ ‘ قدیم طلبہ‘ مرد واخواتین کی کثیر تعداد شریک تھی۔ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے کہا کہ دور حاضر میں جدید مسائل بڑھتے جارہے ہیں‘ اس سلسلہ میں ملت کی شرعی رہنمائی کیلئے فقہ اکیڈمی کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔ جامعہ نظامیہ نے 125 سالہ جشن تاسیس کے موقع پر جو 10 نکاتی پروگرام مرتب کیا تھا اس میں آڈیٹیوریم بھی شامل تھا جو تکمیل کے بالکل آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے اس کا عنقریب رسمی افتتاح عمل میں آئے گا۔ دارالحدیث اور دار التفسیر کے قیام کا بھی پروگرام رکھا گیا تھا اس کی تعمیرات ہوچکی ہیں مالیہ اور اسباب کے پیش نظر علمی کام کا آغاز کیاجانا باقی ہے۔ طلبہ کے لئے دارالاقامہ قائم ہے ‘ طالبات کے لئے بھی دارالاقامہ کی شدید ضرورت ہے ‘ اس کے قیام کی کوشش جاری ہے۔ جامعہ کی اسناد عثمانیہ یونیورسٹی حکومت کے پاس مسلمہ ہوچکی ہیں‘ جو کہ فارغین کیلئے خوش آئند ہے۔ جامعہ میں دینی تعلیم کے ساتھ اردو انگریزی اور کمپیوٹر سائنس کا بھی شعبہ قائم کیا گیا ہے طلبہ اس سے استفادہ کررہے ہیں جو ان کیلئے معاشی سہولت کا سبب ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہند و پاک میں پہلی مرتبہ قرات سبعہ و عشرہ پر مشتمل قرآن مجید کی جامعہ نظامیہ کے زیر اہتمام طباعت عمل میں لائی جاچکی ہے اور رسم اجراء بھی انجام دیا جارہا ہے ۔ جامعہ کا علمی مقام بیان کرنا ضروری نہیں ہے تاہم حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد خواجہ شریف کے وصال پر جامعہ ازہر اور دیگر مقامات سے اہل علم کے جو پیامات آئے ہیں وہ جامعہ کی علمی حیثیت بیان کرنے کیلئے کافی ہیں انہیں مجلہ انوار نظامیہ میں شامل کیا گیا ہے۔ مولانا ڈاکٹر محمد سیف اللہ نائب شیخ الجامعہ نے تعلیمی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ سالانہ امتحانات میں جملہ 6759 طلبہ شریک ہوئے۔ سال آخر سندی درجات میں شرکاء امتحان کی جملہ تعداد 581 اور نتیجہ کامیابی 67 فیصد رہا ‘ ان میں مولوی 253 ‘ عالم 160 ‘ فاضل 133 ‘ کامل الحدیث 28 ‘ کامل الفقہ3 ‘ کامل التفسیر 1 ‘ کامل الادب 2 ‘ کامل التاریخ1 شامل ہیں ۔ مولوی تا کامل سال اول غیر سندی درجات میں شریک امیدواروں کی تعداد 936 رہی‘ جن میں کامیاب امیدواروں کو سال آخر سندی درجات میں شرکت کااہل قراردیا گیا۔ کامیاب طلبہ کی تعداد465 رہی اور نتیجہ کامیابی 56 فیصد رہا ۔ تحتانی ‘ وسطانی واہل خدمات شرعیہ و حفاظ درجات میں شریک امیدواروں کی تعداد 474 رہی جن میں 391 طلبہ نے کامیابی حاصل کی۔ مولوی سید احمد علی معتمد جامعہ نظامیہ نے مالی رپورٹ پیش کی۔ مولانا حافظ میر لطافت علی شیخ التفسیر جامعہ نظامیہ نے تذکرہ شیخ الاسلام ؒ عنوان پر خطاب کیا ۔ سالانہ جلسہ کے موقع پر امتیازی درجہ سے کامیاب طلباء و طالبات کو 12 گولڈ میڈلس تقسیم کئے گئے ۔ سید جمیل الدین کامل الفقہ کو حضرت شیخ الاسلام حافظ محمد انوار اللہ فاروقی قدس سرہ بانی جامعہ نظامیہ گولڈ میڈل منجانب محمد مصلح الدین جاوید بتوسط بزم طلبا قدیم و محبان جامعہ(جدہ)‘ سید خواجہ معین الدین کامل الفقہ کو حضرت شاہ ولی اللہ صوفی محدث دہلویؒ گولڈ میڈل منجانب خانقاہ روضۃ الاصفیاء شاہ ولی اللہی ؒ سکندرآباد ۔ محمد ریحان بن محمد تسلیم انصاری‘ کامل الفقہ کو حضرت سید شاہ وجیہ اللہ حسینی قادری ملتانیؒ گولڈ میڈل منجانب حکیم مظفر علی سجاد ۔ سید انوار اللہ حسینی کامل الفقہ کو نواب احمد یار جنگ گولڈ میڈل منجانب مولوی سید خلیل احمد قادری معلم ریاضی جامعہ نظامیہ۔ عبد القادر تبریز فاضل کو حضرت شاہ آغامحمد داؤد ابو العلائی ؒ گولڈ میڈل منجانب بیرسٹر اسدالدین اویسی ‘صدر کل ہندمجلس اتحاد المسلمین ورکن پارلیمنٹ حیدرآباد ۔ محمد ذاکر حسین فاضل کو حضرت شاہ عبدالعزیز صوفی محدث دہلوی گولڈ میڈل منجانب خانقاہ روضۃ الاصفیاء شاہ ولی اللہی ؒ سکندرآباد۔ محمد اسامہ فاضل کو حضرت شاہ عبد القادر صوفی محدث سکندرآباد گولڈ میڈل منجانب خانقاہ روضۃ الاصفیاء شاہ ولی اللہی سکندرآباد ۔ محمد عبدالقادر حسین فاضل کو محترم سرتاج محمد خان صاحب مرحوم گولڈ میڈل منجانب محترم سراج محمد خان صاحب ‘ (صدر الحراء ایجوکیشنل سوسائٹی‘ جدہ) ۔ محمد مظہر فاضل کو حضرت علامہ سید شاہ ابراہیم ادیب رضویؒ گولڈ میڈل منجانب محترم سید شاہ محمود رضوی قادری عرف ارشاد ۔ اسماء ذیشان فاضل کو حضرت خواجہ محبوب اللہ شاہ علیہ الرحمہ گولڈ میڈل منجانب انتظامی کمیٹی درگاہ حضرت خواجہ محبوب اللہ شاہ ؒ ۔ اسماء عمر صدیقی فاضل کو حضرت امام سُبکی علیہ الرحمہ گولڈ میڈل منجانب بیرسٹر اسدالدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین رکن پارلیمنٹ ‘ حیدرآباد ۔ شاہانہ بیگم فاضل کو حکیم سجاد صاحب گولڈ میڈل منجانب حکیم مظفر علی سجاد دیا گیا ۔ ان کے علاوہ امتیازی درجہ سے کامیاب طلبہ و طالبات کو انعامات بدست مہمانان خصوصی عطا کئے گئے ۔ سالانہ جلسہ میں اردو زبان میں تقریر فاضل دوم کے طالب علم محمد عفان حضرمی ، عربی زبان میں تقریر فاضل دوم کے طالب علم محمد جنید اور انگریزی زبان میں تقریر فاضل دوم کے طالب علم محمد عبدالعزیز عمر فاروقی نے کی ۔ حافظ و قاری محمد عبدالنور متعلم کامل دوم کی قرات کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا ۔ محمد حماد متعلم مولوی اول نے نعت شریف پیش کی ۔ آخر میں مولوی سید احمد معتمد جامعہ نظامیہ نے شکریہ ادا کیا ۔